وفاق المدارس (دینی مدارس کے امتحانی بورڈ)
وفاق المدارس (دینی مدارس کے امتحانی بورڈ)
یہاں وفاق المدارس کے اسناد کے ویریفیکشن کے متعلق تمام معلومات فراہم کی گئی ہے
وفاق المدارس کیا ہے ؟
پاکستان میں دینی مدارس کے تعلیمی نظام کو منظم کرنے کے لیے مختلف مسالک کے زیرِ انتظام تعلیمی بورڈز قائم ہیں، جنہیں 'وفاق المدارس' کہا جاتا ہے۔ یہ بورڈز بالکل اسی طرح کام کرتے ہیں جیسے عصری تعلیم میں میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے تعلیمی بورڈز (BISE) فعال ہوتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد ملک بھر کے مدارس میں یکساں نصابِ تعلیم رائج کرنا، سالانہ امتحانات کا انعقاد کرنا اور کامیاب طلبہ کو مستند اسناد جاری کرنا ہے۔ حکومتِ پاکستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے الحاق کی بنا پر ان بورڈز کی اسناد ملک کے تمام سرکاری و نجی اداروں میں قابلِ قبول ہیں۔ وفاق کی جانب سے جاری کردہ اسناد کو چار بنیادی درجات میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں 'شہادۃ العامہ' میٹرک کے، 'شہادۃ الخاصہ' انٹرمیڈیٹ کے، 'شہادۃ العالیہ' بی اے کے اور 'شہادۃ العالمیہ' ایم اے کے مساوی درجہ رکھتی ہے۔ اگرچہ ہر سطح پر الگ سے برابری (Equivalence) حاصل کی جا سکتی ہے، تاہم عموماً طلبہ 'العالمیہ' کی بنیاد پر ایم اے کی ایکوی لینس حاصل کرتے ہیں۔ اس عمل کے لیے وفاق کی تمام اصل اسناد، رزلٹ کارڈز، شناختی کارڈ کی کاپی اور تصاویر جیسے ضروری کاغذات درکار ہوتے ہیں۔ یہ نظام مدارس کے طلبہ کو یہ سہولت فراہم کرتا ہے کہ وہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ قومی تعلیمی دھارے میں شامل ہو کر اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ ملازمتوں کے یکساں مواقع حاصل کر سکیں۔
وفاق المدارس کے فوائد۔!
جس طرح ہمارے عصری تعلیم میٹرک انٹرمیڈیٹ میں بورڈز ہوتے ہیں اسی طرح دینی علوم میں بھی بورڈز ہوتے ہیں، یہ بھی ہر سال مدارس کے بچوں سے سالانہ امتحان لیتے ہیں اور انہیں مختلف درجات کے حوالے سے اسناد جاری کر دی جاتی ہیں یہ وہ اسناد ہوتی ہیں جو مدارس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے تمام اداروں میں قابل قبول ہوتی ہیں کیونکہ تمام وفاق کا تعلق الحاق گورنمنٹ اف پاکستان سے ہوتا ہے ان میں شہادت عامہ خاصہ عالیہ عالمیہ اسناد ہوتی ہیں۔
ٹوٹل کتنے وفاق المدارس ہیں؟
پاکستان میں دینی مدارس کا تعلیمی نظام انتہائی وسیع ہے، جسے منظم کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) نے مختلف تعلیمی بورڈز کو تسلیم کیا ہوا ہے۔ ان بورڈز کی اسناد (شہادۃ العالمیہ) کو ایم اے کے برابر درجہ حاصل ہے۔
ذیل میں پاکستان کے تمام تسلیم شدہ وفاقی بورڈز اور ان سے وابستہ مسالک کی تفصیل دی گئی ہے:
یہ پانچ بورڈز پاکستان کے قدیم ترین اور بڑے نیٹ ورک رکھنے والے وفاق ہیں:
مسلک دیوبند: وفاق المدارس العربیہ دیوبندی ملتان
مسلک بریلویت: تنظیم المدارس اہل سنت بریلوی لاہور
مسلک اہلحدیث: وفاق المدارس السلفیہ اہل حدیث فیصل آباد
مسلک شیعہ: وفاق المدارس الشیعہ اہل تشیع لاہور
جماعت اسلامی: رابطۃ المدارس الاسلامیہ جماعت اسلامی لاہور
نئے تسلیم شدہ وفاقی بورڈز (وزارتِ تعلیم سے منظور شدہ)
حکومتِ پاکستان نے تعلیمی دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے 2021 کے بعد کئی نئے بورڈز کو بھی قانونی حیثیت دی ہے:
اتحاد المدارس العربیہ: (مسلک: دیوبندی)
اتحاد المدارس الاسلامیہ: (مسلک: اہل حدیث)
وفاق المدارس الاسلامیہ الرضویہ: (مسلک: بریلوی)
نظام المدارس پاکستان: (منہاج القرآن انٹرنیشنل)
مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمت: (مسلک: اہل تشیع)
وحدت المدارس الاسلامیہ: (مسلک: دیوبندی)
کنز المدارس: (دعوتِ اسلامی - مسلک: بریلوی)
انفرادی تعلیمی ادارے (Degree Granting Institutions)
کچھ ادارے ایسے بھی ہیں جو کسی وفاق کے بجائے اپنی ڈگری خود دینے کے مجاز ہیں اور HEC انہیں تسلیم کرتا ہے: یعنی ان کی سند (ڈگری) براہ راست گورنمنٹ کے ڈگری کے مساوی (برابر) ہے۔
دارالعلوم کراچی (کورنگی)
جامعہ اشرفیہ (لاہور)
جامعہ المنتظر (لاہور)
جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن (لاہور)
جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ (فیصل آباد)
دارالعلوم محمدیہ غوثیہ (بھیرہ)
مدارس کے طلبہ کے لیے خوشخبری: دینی اسناد اب عصری ڈگریوں کے برابر!
حکومتِ پاکستان نے دینی مدارس کے طلبہ کو قومی تعلیمی دھارے میں شامل کرنے اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے دینی اسناد کو عصری علوم کے مساوی قرار دینے کی سہولت فراہم کی ہے۔ اس پالیسی کے تحت مختلف وفاق المدارس کے تحت حاصل کردہ اسناد کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور متعلقہ تعلیمی بورڈز کے ذریعے درج ذیل تعلیمی اسکیل کے مطابق برابری (Equivalence) دی جاتی ہے:
شہادۃ العامہ: میٹرک (Secondary School Certificate) کے مساوی۔
شہادۃ الخاصہ: انٹرمیڈیٹ (Higher Secondary School Certificate) کے مساوی۔
شہادۃ العالیہ: بی اے / بی ایس (Bachelor’s Degree) کے مساوی۔
شہادۃ العالمیہ: ایم اے (Master’s Degree) کے مساوی۔
اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ مدارس کے فضلاء بھی عصری علوم کے حامل طلبہ کی طرح اعلیٰ تعلیم، سرکاری ملازمتوں اور دیگر پیشہ ورانہ شعبوں میں یکساں مواقع حاصل کر سکیں۔
دینی اسناد کی برابری (Equivalence) کا طریقہ کار اور مطلوبہ دستاویزات
پاکستان میں دینی مدارس کی اسناد کو عصری علوم (میٹرک تا ایم اے) کے مساوی درجہ دلوانے کے لیے مخصوص ضوابط موجود ہیں۔ اگرچہ ہر تعلیمی مرحلے (عامہ، خاصہ، عالیہ، عالمیہ) کی انفرادی سطح پر برابری حاصل کی جا سکتی ہے، تاہم عام طور پر طلبہ "شہادۃ العالمیہ" (ایم اے کے مساوی) کی ایکوی لینس حاصل کرتے ہیں تاکہ وہ اعلیٰ ملازمتوں یا پی ایچ ڈی میں داخلے کے اہل ہو سکیں۔
برابری کے مختلف مراحل (Level-wise Equivalence)
حکومتی پالیسی کے مطابق دینی اسناد کی درجہ بندی درج ذیل ہے:
عامہ: میٹرک (SSC) کے مساوی
خاصہ: انٹرمیڈیٹ (HSSC) کے مساوی
عالیہ: بی اے / بی ایس (Bachelor) کے مساوی
عالمیہ: ایم اے (Master) کے مساوی
ایچ ای سی (HEC) یا آئی بی سی سی (IBCC) سے برابری کی سند حاصل کرنے کے لیے درج ذیل کاغذات کا ہونا لازمی ہے:
اصل اسناد و رزلٹ کارڈز: وفاق المدارس کی جانب سے جاری کردہ تمام درجات (عامہ سے عالمیہ تک) کی اصل اسناد اور تفصیلی مارکس شیٹس۔
شناختی دستاویزات: امیدوار کے اصل شناختی کارڈ (CNIC) یا بی فارم کی فوٹو کاپی۔
پاسپورٹ سائز تصاویر: حالیہ کھینچی گئی تصدیق شدہ تصاویر۔
وفاق کی تصدیق: متعلقہ وفاق المدارس سے اسناد کی تصدیق شدہ کاپی (جو عموماً سیل شدہ لفافے میں ہوتی ہے)۔
عصری تعلیم کے سرٹیفکیٹس: اگر امیدوار نے میٹرک یا انٹر الگ سے کر رکھا ہے، تو ان کی اصل اسناد۔
شہادۃ العالمیہ کو ایم اے کے برابر تسلیم کروانے کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی بنیادی شرط یہ ہے کہ:
امیدوار نے عالمیہ سے قبل تمام درجات (عامہ، خاصہ، عالیہ) کے امتحانات وفاق کے ذریعے پاس کیے ہوں۔
ایچ ای سی کی موجودہ پالیسی کے تحت، عصری علوم کے لازمی مضامین (انگریزی، اردو، مطالعہ پاکستان وغیرہ) کی شرط یا میٹرک/انٹر کے مروجہ قواعد کو پورا کرنا ضروری ہے۔
طلبہ کو چاہیے کہ وہ برابری کے لیے درخواست دینے سے پہلے اپنی تمام اسناد کے نام اور ولدیت کے ہجے (Spellings) اپنے شناختی کارڈ کے مطابق درست کروا لیں تاکہ بعد میں کسی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
دینی اسناد کی برابری (Equivalence/معادلہ) کا حصول ایک تکنیکی اور طویل قانونی عمل ہے، جس میں ایچ ای سی (HEC) اور آئی بی سی سی (IBCC) کے پیچیدہ قوانین اور مختلف مراحل شامل ہوتے ہیں۔ معلومات کی کمی یا معمولی سی غلطی کی وجہ سے اکثر احباب کو دفاتر کے بار بار چکر لگانے پڑتے ہیں اور ان کا قیمتی وقت اور پیسہ ضائع ہو جاتا ہے۔
ہم آپ کی یہ مشکل آسان کرتے ہیں!
ہم ایک طویل عرصے سے مدارس کے فضلاء اور علماء کرام کو "معادلہ" کے حصول میں پیشہ ورانہ معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ ہماری ماہرانہ خدمات حاصل کرنے کے بعد آپ کو دفاتر کی پیچیدگیوں اور طویل انتظار کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ ہم انتہائی ذمہ داری کے ساتھ آپ کی اسناد کی جانچ پڑتال سے لے کر حتمی ایکو لینس سرٹیفکیٹ کے حصول تک تمام مراحل خود طے کرتے ہیں۔
ہماری خدمات کے چند نمایاں پہلو:
وقت کی بچت: ہم تمام دفتری کارروائی کو تیزی اور مہارت سے مکمل کرتے ہیں۔
درست رہنمائی: ہم آپ کی اسناد کا مکمل جائزہ لے کر آپ کو درست طریقہ کار سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ کسی قسم کا اعتراض نہ لگے۔
شفاف طریقہ کار: ہم انتہائی مناسب سروس چارجز کے عوض آپ کو گھر بیٹھے مکمل سہولت فراہم کرتے ہیں۔
مکمل رازداری: آپ کی اسناد اور ڈیٹا کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔
ابھی ہم سے رابطہ کریں!
اگر آپ اپنی دینی اسناد (عامہ، خاصہ، عالیہ یا عالمیہ) کو عصری ڈگری کے مساوی کروانا چاہتے ہیں، تو مزید پریشان ہونے کے بجائے آج ہی ہماری ویب سائٹ پر دیے گئے نمبرز پر رابطہ کریں اور اپنی تعلیمی منزل کی راہ ہموار کریں۔